لیاری گینگ وار پرانا گولیمار کے مرکزی ملزم ساجدبلوچ کے خوفناک انکشافات

Total
0
Shares

کراچی(کرائم رپورٹر) لیاری گینگ وار کا سائلنٹ دہشت گرد رینجرز کے سامنے انٹروگیشن میں پھوٹ پڑا’ قتل’ اقدام قتل’ پولیس مقابلوں’ دہشت گردی کے واقعات اور منشیات فروشی کے منظم نیٹ ورک کی سرپرستی کا اعتراف کرلیا’ گرفتار ملزم ساجد نے بھائی واجد سے متعلق کئی انکشافات کردیئے’ ارشد پپو گروپ کی کمانڈ سنبھالنے والا خوف کی علامت ساجد کی گرفتاری رینجرز نے ظاہر کردی’19 سالوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب لیاری گینگ وار کا کمانڈر قتل کی وارداتیں اگلنے لگا’ تو تفتیش کار حیران رہ گئے’پاک کالونی سے پورا نیٹ ورک آپریٹ کئے جانے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔

شہر میں اسلحے کی ترسیل کیسے کی گئی گینگ وار کو اسلحہ کون پہنچاتا تھا ساجد نے خطرناک راز اگل ڈالے’ ٹارگٹ کلنگ کا نیٹ ورک چلانے کیلئے بھرپور حکمت عملی کے تحت کارروائیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ترجمان رینجرز کے مطابق ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کے نتیجے میں رینجرز نے لیاری گینگ وار پرانا گولیمار کے کمانڈر اور قتل’ اقدام قتل’ پولیس پر حملوں’ دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی سمیت گینگ وار کو اسلحہ کی ترسیل اور منشےات فروشی کے نیٹ ورک کی سرپرستی میں ملوث انتہائی مطلوب گینگ وار کمانڈر ساجد گولیمار عرف ڈکیت کی گرفتاری ظاہر کردی ۔

خطرناک دہشت گرد کا تعلق لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ خاندان رحمان ڈکیت سے ہے ملزم رحمان ڈکیت کا برادر نسبتی ہے ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم 2004میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ رحمان ڈکیت گروپ میں شامل ہوا 2009میں گینگ وار کی کمانڈ سنبھالنے والے عزیر بلوچ اور پیپلزامن کمیٹی کی سرپرستی میں علاقے کا کمانڈر مقرر ہوتے ہی خوف کی علامت بن گیا۔ ملزم نے بغاوت کی اور 2016 میں مخالف گروپ ارشدپپو گروپ کے کمانڈر بلال عرف چھوٹا پپو کا رائیڈ ہینڈ بن گیا۔

اس گروپ میں شامل ہونے کیلئے گرفتار ملزم ساجد نے اپنی حقیقی ہمشیرہ کو بلال کے سپرد کیا ملزم کی گرفتاری سے متعلق ترجمان رینجرز نے بتایا کہ 2004 سے2014تک لیاری گینگ وار کی خطرناک سرگرمیاں جاری رہیں ملزم شامل تھا گروہ قتل’ اقدام قتل’شہر بھر سے بھتہ وصولی’ منشیات فروشی اور غیرقانونی اسلحے کی ترسیل سمیت پولیس پر حملوں میں ملوث ہیں۔

رینجرز ترجمان کے مطابق ملزم کراچی آپریشن کے شروع ہوتے ہی بیرون ملک فرار ہو گیا تھااوروہاں سے اپنا نیٹ ورک منظم انداز میں چلاتا رہا۔ملزم گزشتہ عرصہ دراز سے مسقط سے بیٹھ کر شہر کا امن خراب کرتا رہا’ ترجمان رینجرز کہتے ہیں کہ ملزم حال ہی میں واپس آکر اپنا نیٹ ورک منظم کر رہا تھا۔ملزم کانام سندھ پولیس کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ریڈ بک میں بھی شامل ہے اور ملزم کے خلاف تھانہ پاک کالونی میں قتل،اقدام قتل، پولیس مقابلے، دہشت گردی اورمنشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔ملزم سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ادھر باوثوق ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم نے 20 گھروں کو خالی کرواکر مسمار کیا اور فیملی کو دھمکاکر زمینوں پر قبضہ کیا’ گرفتار ملزم ساجد پاک کالونی کی ماربل مارکیٹ سے بھاری تعداد میں بھتہ وصولی کے ذریعے گینگ کی فنڈنگ کرتارہا ساجد اغواء برائے تاوان کا ایک منظم نیٹ ورک شہر میں آپریٹ کرتا تھا۔

ریکسر لین پل پر جمیل چھانگاکے ہمراہ قتل کی واردات انجام دی ثاقب’ کاشف اور عاشق تین سگے بھائیوں کو بھی ساجد کے حکم پر قتل کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق 2006سے پاک کالونی سے چلنے والے ڈکیتوں کے منظم نیٹ ورک کو ساجد کی بھرپورسرپرستی حاصل رہی۔ ملزم کے قریبی دست رازوں میں بھائی واجد ڈکیت’ زاہد دیوا’کلاکوٹ والا سرور’ ماجد سخی داد شامل ہیں۔

ملیر میں گینگ میں کے ٹو سگریٹ بنانے والی کمپنی میں بڑی واردات کی تھی16سال قبل گولڈن پان والی گلی میں انو پان والے کو زخمی کیا سلطان عرف بابا کو ٹانگ میں گولی مار’ مراد جان کو بھی گولیاں مار کر زخمی کیا 2008 میں سیاسی رہنما نثار کو سرمیں گولیاں مار کر قتل کیا’ نثار کے دوست نادر بلوچ کو بینظیر پارک میں گولیاں مار کر قتل کیا۔ یونس کباڑی ‘ دلو کے قتل میں بھی ملوث رہا۔ڈبل پی ایم ٹی والی گلی سے رشید اور عزیز کو 15 رکنی اسکواڈ کے ہمراہ اغواء کیا اور امن کمیٹی کے حکم پر قتل کی واردات انجام دی۔عمران گولا اور منیر کو ٹارچر کے بعد قتل کیا نعیم سناٹا نامی افسر پر ایوان اور لاکٹ لانچر سمیت گرنیڈ حملے بھی کئے۔

ساجو نامی شہری کو قتل جبکہ اس کے بھائی آصف کو زخمی کیا۔ ساجد خوف کی علامت بننے کے بعد ذاتی رنجش کی بنیاد پر بھی شہر میں قتل کی وارداتیں کرتا رہا۔ شہزاد عرف راجو راکٹ سمیت 6 افراد کو قتل کیا اپنے سگے ماموں نواز کو بدترین تشدد کے بعد قتل کرکے لاش پھینک دی۔بڑا بورڈ اور گارڈن سیکٹر پر بھی حملوں میں ساجد واجد گینگ ملوث رہا۔ لسانی فسادات کے نام پر پاک کالونی اور گارڈن سیکٹر کے کئی سیاسی جماعت کے کارندوں کو قتل اور لاشیں ٹھکانے میں بھی یہی گروپ ملوث رہا۔2013 مےں اسی گروپ نے انور کوجک کے بھائی منور پٹھان کو قتل کیا بطوق پٹھان کو زخمی کیا۔نصف درجن سے زائد پولیس مقابلوں سمیت رینجرز پر حملوں میں بھی ساجد واجد گروپ ملوث رہا۔رینجرز کے مطابق ملزم سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔

44

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Also Like

وین ڈرائیورز دوران سفر بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں، رفیعہ جاوید ملاح

ر فیعہ جاوید، ایڈیشنل ڈائریکٹر (رجسٹریشن)، ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے تمام والدین، ڈرائیوروں اور…
View Post

حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی کے 43 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز 23 مارچ سے کیا جائے گا

سلسلہ چشتیہ و پاکستان کے نامور بزرگ خواجہ خواجگان حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی قلندری دہلوی کے 43ویں عرس شریف کی تقریبات ہر سال کی طرح اس سال…
View Post