پاکستان بنانے والوں کو پاکستان چلانے کا اختیار نہیں ملے گا تو پاکستان بہتر نہیں ہو سکتا، خالد مقبول صدیقی

Total
0
Shares

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارا طرزِ سیاست ہی پاکستان کو ترقی کی منزل کی جانب لے جانے کا واحد راستہ ہے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی جمہوریت کو ہی پاکستان کے لیے واحد راستہ قرار دیا ہے ان خیالات کا اظہار کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تاریخ نے دیکھا کہ پاکستان بنا تو تاریخ کی سب سے بڑا عوامی تبادلہ ہوا ہمارے سندھی ہندو بھائی جب پاکستان سے ہندوستان گئے تو انکے پاس ہمارے گھروں کا کلیم تھا اور ایسے ہی ہمارے پاس انکے گھروں کا کلیم تھا یہاں سندھی اتنے نہیں تھے کہ وہ ہمارے طریقے، زبان پر فرق ڈالتے ہم حادثاتی پاکستانی نہیں ارادے سے پاکستان بنا کر یہاں آئے تھے ہندوستان سے آنے والوں نے اپنی علاقائی شناخت کو چھوڑ دیا صرف پاکستان اور اسلام کی نسبت رہ گئی

یہاں پر ہر فرقے اور زبان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی اور مذہبی جماعتیں موجود تھیں ایسی کیا مجبوری تھی کہ گلی کوچوں میں رہنے والوں کو اتنی جماعتوں کی موجودگی میں ایم کیو ایم کو بنانا پڑاجب تک ان اغراض و مقاصد کو نہیں سمجھیں گے تب تک ایم کیو ایم غلط ہی نظر آئے گی،

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے انتخابی سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ہم نے دیکھا کہ سندھ میں ایک جماعت سیاست کو رخ دیتی ہے اور پیپلز پارٹی اس پر عملی جامہ پہناتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی سے کئے گئے معاہدے کے نتیجے کا اندازہ تھا ہم نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے کے لئے ایک بڑا سیاسی کیپیٹل کا نقصان کیااندرون سندھ ہمارے لوگ سمجھتے ہیں ہمارا پی پی سے معاہدہ ہے جبکہ یہ محض مطالبات ہیں،ہم کامیاب ہوں یا نا ہوں ہمارا طرز سیاست پاکستان کی کامیابی کی کنجی ہے

انکا کہنا تھا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے ہمیں مل کر ہاکستان میں اصل جمہوریت کے لئے جہدوجہد کرنا چاہئے،چالیس سال سے حالات وہی ہیں ایوانوں میں چند خاندان بیٹھے ہیں،پاکستان میں دس دس سال کے لئے الیکشن میں وقفے آجاتے ہیں پاکستان کا ایوان ایسا بدنصیب ایوان جہاں کسانوں کی نمائندگی جاگیردار کرتا ہے،جعلی جمہوریت اور مورثی سیاست میں کیا پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے ہمارے پڑوس میں دو ایسے ملک ہیں جنہوں نے ترقی کی ایم کیو ایم جمہوریت پر پختہ یقین رکھتی ہے، جعلی اور جاگیردارانہ جمہوریت کو حقیقی جمہوریت نہیں سمجھتی،ایف بی آر کے اعلامیہ میں یہ شامل ہے کہ جتنا پورا لاہور کی مارکیٹس ٹیکس دیتی ہیں اس سے زیادہ لیاقت آباد کی سپر مارکیٹ دیتی ہے جب تک عام پاکستانیوں کو اختیارات اور حقوق نہیں دیں گے معاملہ بہتر نہیں ہو گا،جس جبر اور جدوجہد کے بعد آج ایم کیو ایم آپ کے سامنے کھڑی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 50 لاکھ بچوں کو نئی ٹیکنالوجی سیکھانی ہوگی ورنہ انسانیت جس موڑ سے گزر رہی ہے اربوں لوگ غیر متعلقہ ہو جائیں گے ٹیکس دینے کی زمہ داری صرف ایک شہر کی نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والے ہماری تنظیم میں شامل نہ ہوں لیکن جدوجہد میں شامل ہوں۔پاکستان بنانے والوں کو پاکستان چلانے کا اختیار نہیں ملے گا تو پاکستان بہتر نہیں ہو سکتا۔

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینرز سید مصطفیٰ کمال اور نسرین جلیل، ڈپٹی کنوینر خواجہ اظہار الحسن، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق اراکینِ رابطہ کمیٹی و حق پرست اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی بھی ہمراہ موجود تھے۔

میٹ دی پریس میں پریزیڈنٹ کراچی پریس کلب سعید سربازی، سیکرٹری شعیب احمد، اراکینِ مجلسِ عاملہ، سینئر صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پریس کلب کراچی کا قلب ہے، کراچی پریس کلب نے پورے پاکستان کو ایک دیوار گریا دی ہے۔

اس شہر سے ہی نہیں پورے پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ یہاں آکر گریہ کر کے جاتے ہیں۔2018 میں صبر کا دور تھا اب شکر کا دور ہے۔ایم کیو ایم تقسیم نہیں بلکہ تجدید کے مرحلے سے گزر رہی تھی۔پورے پاکستان کو پہلے سے زیادہ متحرک، مضبوط اور مستحکم ایم کیو ایم مبارک ہو۔ایم کیو ایم نے غریب نوجوانوں کو ایوانوں میں بھیجنے کا ماڈل دیا جو ایوانوں میں جانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

صرف حکومت ہی ایم کیو ایم کے بغیر نامکمل نہیں بلکہ اپوزیشن بھی یہی محسوس کرتی ہے کہ وہ ہمارے بغیر نامکمل ہے۔اتنا وقت گزرنے کے باوجود ہم تبدیل نہی ہوئے نہ ہم تبدیل ہونے دیا گیا۔حکومتوں نے ہمارے حقوق نہیں دیئے آج بھی وہی مطالبہ کر رہے ہیں۔تاجر گنتے ہیں کہ یہ شہر 3.5 کروڑ کا ہے، 3.5 کروڑ عوام کیلئے گندم لائی جاتی ہے جبکہ حکمران اسے 1.5 کروڑ گنتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین پارلیمنٹ کے فلور پر کہہ چکے ہیں یہ شہر 3.5 کروڑ ہے۔سابق چیف جسٹس گلزار احمد بھی کہہ چکے یہ شہر 3.5 کروڑ آبادی کا ہے۔

اس شہر میں کوئٹہ سے زیادہ پختون، لاڑکانہ سے زیادہ سندھی، کابل سے زیادہ افغانی رہتے ہیں۔ہائی رائزز کو گنا نہیں جا رہا آخر میں ایک فارمولا طے کر دیا جائے گا کہ اوسطاً 5 افراد ایک گھر میں رہتے ہیں۔گھروں کو بھی مکمل طور پر نہیں گنا جا رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کا طرز سیاست احتجاجی یا اختلافی نہیں لیکن جہاں سے ہمیں مینڈیٹ ملا وہ ہماری زمہ داری ہیں۔پورے پاکستان کو اپنی زمہ داری اور اجداد کی امانت سمجھتے ہیں۔پاکستان کو بنانا مقصود نہیں بلکہ پاکستان بنانے کا بھی مقصد تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Also Like

وین ڈرائیورز دوران سفر بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں، رفیعہ جاوید ملاح

ر فیعہ جاوید، ایڈیشنل ڈائریکٹر (رجسٹریشن)، ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے تمام والدین، ڈرائیوروں اور…
View Post

این آئی سی ایچ میں ڈاکٹر عمرانہ پل کا پچھلے آٹھ سالوں سے ڈیوٹی سے مبینہ غیر حاضر رہنے کا انکشاف

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ(این آئی سی ایچ) کے ملازم کی جانب سے ادارہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو جمع کروائی گئی درخواست میں انکشاف ہوا ہے کہ 2009 سے لے…
View Post

حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی کے 43 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز 23 مارچ سے کیا جائے گا

سلسلہ چشتیہ و پاکستان کے نامور بزرگ خواجہ خواجگان حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی قلندری دہلوی کے 43ویں عرس شریف کی تقریبات ہر سال کی طرح اس سال…
View Post