سندھ حکومت بہت جلد انسانی حقوق کی پالیسی متعارف کرائے گی، سریندر والاسائی

Total
0
Shares

 سندھ کی صوبائی حکومت جلد ہی انسانی حقوق سے متعلق ایک جامع پالیسی متعارف کرائے گی، جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جبری مذہب تبدیلیوں سمیت لوگوں کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کو شامل کیا جائے گا۔

یہ بات سندھ کے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی نے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی اسٹریٹجک پلاننگ ورکشاپ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

دو روزہ ورکشاپ میں انسانی حقوق کے محافظوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، مزدوروں کے حقوق کے ماہرین، متعلقہ سرکاری محکموں اور خواتین کے حقوق اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔
جناب والاسائی نے کہا کہ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی اور ادارے متعارف کرانے کا سہرا سندھ حکومت کے سر ہے۔ صوبائی حکومت ٹرانس جینڈر افراد کی ضروریات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے صوبائی لوکل گورنمنٹ کونسلز میں ٹرانسن جنڈر کی نشستیں مخصوص کی ہیں۔

سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین جناب اقبال ڈیتھو نے نشاندہی کی کہ سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اور اب کمیشن کے مینڈیٹ میں بزنس اینڈ ہیومن رائٹس اور متبادل تنازعات کے حل کے موضوعات شامل کیے گئے ہیں جو کہ وقت کی اہم ضرورت تھی۔

ان کے مطابق سندھ ہیومین رائٹس کمیشن کے اسٹریٹجک پلان (2022-2025) میں متعدد مقاصد اور اقدامات کی نشاندہی کی ہے، جن میں تحقیق، قانون کا جائزہ، ادارہ جاتی تعمیر اور توسیع، اور مالیاتی خود مختاری کے اجزاء شامل ہیں جبکہ خواتین کے خلاف جرائم، بچوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ، کے موضوعاتی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

بچیوں کی شادی، تعلیم کی حالت، پینے کے پانی کے مسائل، عام عوامی خدمات کے مسائل، امن و امان اور انصاف تک رسائی، مزدوروں کے حقوق، قبائلی، ماحولیات کی تنزلی، اور عمومی ترقی کے مسائل وغیرہ بھی اس اسٹریٹیجک پلان کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کا بنیادی کردار موجودہ قوانین کے نفاذ کو فروغ دینا ہے۔ سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 498 بی خاص طور پر جبری شادیوں اور جبری تبدیلی کی ممانعت سے متعلق ہے۔

اس کے علاوہ مسٹر ڈیٹھو نے ذکر کیا کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن (SHRC) نصاب میں موجود امتیازی سلوک کے مسائل کو حل کرے گا۔

انسانی حقوق کے ماہر جناب قندیل شجاعت نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی گفتگو کی کہ آیا سندھ ہیومین رائیٹس کمیشن کے اس پلان میں مجوزہ حکمت عملیوں کو شامل کیا گیا ہے کہ نہیں۔

سینئر مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن جناب نصیر میمن نے صوبہ سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال کا ایک جائزہ پیش کیا، خاص طور پر 2022 کےسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا احاطہ کیا۔ ان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے اب بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سیلابی پانی کھڑا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان علاقوں میں بدقسمتی سے حکام اکثر سنگین مسائل کو انسانی حقوق کی نظر سے دیکھنے سے محروم ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کے ماہر جناب عطاء المصطفیٰ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شکایات سے نمٹنے کے طریقہ کار کی نگرانی کے بارے میں ایک پریزنٹیشن دی۔ ان کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق کو یقینی بنانے والے اداروں کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور شکایات کو رکارڈ اور رپورٹ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

بیرسٹر ردا طاہر نے سندھ ہیومن رائٹس پالیسی اور سندھ چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کے مسودے پر تکنیکی معلومات پیش کیں۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی کا مقصد تمام مداخلتوں کو ہموار کرنا اور آپریشن کے تمام شعبوں کو تمام بچوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں سے متعلق صوبائی اعداد و شمار کی کمی کی وجہ سے اکثر تجزیہ کے لیے درست ڈیٹا اکٹھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حکومت سندھ کے محکمہ انسانی حقوق میں ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل کے ایگزیکٹو کوآرڈینیٹر جمیل جونیجو نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور صوبائی ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل کے کردار پر تفصیلی بات چیت کی۔

چیئرپرسن برائے سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن محترمہ نزہت شیریں نے خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین پر نظرثانی کے حوالے سے صوبے میں کمیشن کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے اراکین محترمہ کلثوم چانڈیو اور اسلم شیخ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Also Like

وین ڈرائیورز دوران سفر بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں، رفیعہ جاوید ملاح

ر فیعہ جاوید، ایڈیشنل ڈائریکٹر (رجسٹریشن)، ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کی جانب سے تمام والدین، ڈرائیوروں اور…
View Post

حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی کے 43 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز 23 مارچ سے کیا جائے گا

سلسلہ چشتیہ و پاکستان کے نامور بزرگ خواجہ خواجگان حضرت صاحبزادہ سید محمد متین محبوبی چشتی قلندری دہلوی کے 43ویں عرس شریف کی تقریبات ہر سال کی طرح اس سال…
View Post